بنگلورو،25؍دسمبر(ایس او نیوز) وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی کا یہ بیان کہ منڈیا ضلع میں جے ڈی ایس کارکن کے قتل کے ذمہ دار عناصر کو بے رحمی سے گولی ماردی جائے، تنازعے کا سبب بن گیا ہے۔
بتایا جاتاہے کہ سوشیل میڈیا پر فاش ہونے والے ایک ویڈیو میں وزیراعلیٰ کما ر سوامی کو ایک سرکاری افسرکو ہدایت دیتے ہوئے دیکھا گیا ہے کہ جے ڈی ایس کارکن پرکاش کے قتل کے ذمہ دار عناصر کو بے رحمی سے گولی ماردی جائے۔ کمارسوامی کے اس تبصرے پر تمام حلقوں سے نکتہ چینیوں کے بعد وزیراعلیٰ نے اس تبصرے کو جذباتی ردعمل قرار دیا اور کہاکہ اس جذباتی ردعمل کو ان کے حکم سے تعبیر نہیں کیا جانا چاہئے۔ اپوزیشن بی جے پی نے وزیراعلیٰ کمار سوامی کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے غیر ذمہ دارانہ قرار دیا۔
منڈیا ضلع کے مدور ٹاؤن میں کل شام 50سالہ پرکاش جو جے ڈی ایس کا ایک کارکن تھا، اسے چار مسلح افرادنے قتل کردیا۔ پولیس نے بتایاکہ پرکاش کو جو منڈیا ضلع پنچایت کا سابق ممبر ہے چارحملہ آوروں نے روک دیا اور اسے کار سے باہر نکال کر مار دیا۔ اس واقعے کے بعد مدور اور منڈیا میں کشیدگی پھیل گئی۔ لوگوں نے پولیس تھانے کے روبرو جمع ہوکر قاتلوں کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کرنا شروع کردیا۔اپنی پارٹی کے کارکن کی موت کی اطلاع پاکر وزیراعلیٰ کمار سوامی نے سرکاری افسروں کو فون پر ہدایت دی کہ پرکاش کے قتل کے ذمہ داروں کو گولی ماردی جائے۔ متنازعہ ویڈیو وزیراعلیٰ کمار سوامی کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا ہے کہ وہ منڈیا ضلع کی پولیس کی کارکردگی سے ناخوش ہیں۔ ضلع میں اب تک تین جے ڈی ایس کارکنوں کا قتل کردیاگیا ہے۔
اس ویڈیو میں انہوں نے مزید کہا ہے کہ وہ نہیں جانتے کہ پولیس اس معاملے سے کیسے نپٹے کی یہ پولیس کی ذمہ داری ہے۔ قتل کی وجہ سے وہ پولیس کی کارکردگی سے خوش نہیں ہیں۔ اس قتل نے پولیس کی نیک نامی متاثر کی ہے۔ مقتول پرکاش بہت اچھا آدمی تھا، اس کے قاتلوں کو اگر گولی بھی ماردی گئی تو کوئی مسئلہ نہیں۔ نتائج کی انہیں کوئی پروا نہیں ہے۔ اس ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد مختلف حلقوں سے ہونے والی نکتہ چینیوں کے جواب میں کمار سوامی نے کہاکہ پارٹی کارکن کے قتل کی وجہ سے وہ طیش میں آچکے تھے، اسی وجہ سے انہوں نے ایسا جذباتی ردعمل ظاہر کردیا، انہوں نے کہاکہ ایک ایسے فرد کو جو بہت ہی اچھے طریقے اپنے حلقے کے عوام سے میل جول اور تعلقات رکھتاتھا، مار دیا جائے گا اس کے بارے میں وہ سوچ بھی نہیں سکتے، اسی لئے جب پرکاش کے قتل کی اطلاع ملی تو وہ بھڑک گئے۔ دوسری طرف دفتر وزیراعلیٰ کی طرف سے بھی یہ وضاحت نامہ جاری کیا گیا کہ وزیر اعلیٰ کا تبصرہ جذباتی ردعمل تھا۔ پولیس کو احکامات نہیں ۔
وزیر اعلیٰ نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کے دوران کہاکہ اس سے پہلے بھی مدور کے اسی علاقے میں جے ڈی ایس کے دو کارکنوں کا قتل کیا گیا ہے۔ پولیس سے انہوں نے یہی کہا ہے کہ وہ اس معاملے میں احتیاط برتیں اور یہ یقینی بنائیں کہ قتل کے ملزمین کو ضمانت نہ ملنے پائے، لیکن اس کے باوجود بھی پولیس نے کوئی احتیاط نہیں برتی ، پچھلے قتل کے ملزمین ضمانت پر باہر آگئے اور ایک بار پھر انہوں نے پرکاش کو نشانہ بنایا ۔ ریاستی بی جے پی صدر بی ایس یڈیورپا نے وزیر اعلیٰ کمار سوامی کے بیان پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ کمار سوامی سے انہیں ایسی زبان کی امید نہیں تھی، اگر کمار سوامی ایسی باتیں کرنے لگیں تو ریاست کے نظم وضبط کا کیا ہوگا۔ انہوں نے کمار سوامی کے اس بیان کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیا اور کہاکہ اس سے لاقانونیت بڑھے گی۔